Sunday, 20 March 2011

میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے

نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو
...
اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے

جھکے سروں کو اُٹھا کے دیکھو، قدم تو آگےبڑھا کے دیکھو
ہے ایک طاقت تمہارے سر پر، کرے گی سایہ جو اُن سروں پر

قدم قدم پر جو ساتھ دے گی، اگر گرو تو سنبھال دے گی
میرے وطن کے اُداس لوگو، اُٹھوں چلو اور وطن سنبھالو

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home

 

FX, Betfred, FX, poker, winner casino