آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
کل شب عجیب عکس میرے آئینے میں تھے
سارے دھنک کے رنگ تھے اُس کے لباس میں
خوشبو کے سارے رنگ اُسے سوچنے میں تھے
...
ہر بات جانتے ہوئے دِل مانتا نہ تھا
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے
وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے نا گُزیر
کچھ لُطف اُس کے قُرب میں کچھ فاصلے میں تھے
جگنو، ستارہ، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ
سب اپنے اپنے غم کے کسی سلسلے میں تھے
امجد کتابِ جان کو وہ پڑھتا کس طرح
لکھنے تھے جتنے لفظ ابھی حافظے میں تھے
کل شب عجیب عکس میرے آئینے میں تھے
سارے دھنک کے رنگ تھے اُس کے لباس میں
خوشبو کے سارے رنگ اُسے سوچنے میں تھے
...
ہر بات جانتے ہوئے دِل مانتا نہ تھا
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے
وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے نا گُزیر
کچھ لُطف اُس کے قُرب میں کچھ فاصلے میں تھے
جگنو، ستارہ، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ
سب اپنے اپنے غم کے کسی سلسلے میں تھے
امجد کتابِ جان کو وہ پڑھتا کس طرح
لکھنے تھے جتنے لفظ ابھی حافظے میں تھے
posted by Urdu medium page at
15:37


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home