Sunday, 20 March 2011

آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
کل شب عجیب عکس میرے آئینے میں تھے

سارے دھنک کے رنگ تھے اُس کے لباس میں
خوشبو کے سارے رنگ اُسے سوچنے میں تھے
...
ہر بات جانتے ہوئے دِل مانتا نہ تھا
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے

وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے نا گُزیر
کچھ لُطف اُس کے قُرب میں کچھ فاصلے میں تھے

جگنو، ستارہ، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ
سب اپنے اپنے غم کے کسی سلسلے میں تھے

امجد کتابِ جان کو وہ پڑھتا کس طرح
لکھنے تھے جتنے لفظ ابھی حافظے میں تھے

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home

 

FX, Betfred, FX, poker, winner casino